حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں مدرسہ علمیہ امام خمینیؒ میں درس اخلاق کے دوران حجتالاسلام والمسلمین صدیقی نے نہج البلاغہ کے خطبہ متقین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اس خطبے میں اہل تقوا کی صفات بیان کی ہیں۔ ان میں ایک اہم صفت رات کے وقت بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور قرآن کریم کی تلاوت کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات میں نماز شب کو خاص اہمیت حاصل ہے اور قرآن کریم و روایات میں اس کی ترغیب دی گئی ہے۔ انسان اگر رات میں عبادت کے لیے اٹھنے کی عادت بنائے تو اس سے روحانی بیداری برقرار رہتی ہے۔
حجتالاسلام والمسلمین صدیقی نے شیخ بہائی کی کتاب ’’مفتاح الفلاح‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شیخ بہائی علمی اور روحانی اعتبار سے ایک عظیم شخصیت تھے۔ انہوں نے علم، فقہ، حکمت، عرفان اور مختلف علوم میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کے مطابق جبل عامل سے ایران آنے والے علما نے تشیع کے فروغ اور ایرانی معاشرے کو اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے شیطان کے طریقۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ شیطان انسان کو ایک ہی بار گمراہ نہیں کرتا بلکہ قدم بہ قدم اسے نیکی سے دور کرتا ہے۔ پہلے انسان کو مکروہ کاموں کی طرف مائل کیا جاتا ہے، پھر وہ مستحبات کو معمولی سمجھنے لگتا ہے اور آخرکار واجبات میں بھی سستی پیدا ہونے لگتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکروہات سے بچنا انسان کو حرام سے دور رکھتا ہے، جبکہ مستحبات کی پابندی واجبات کی حفاظت کرتی ہے۔ جب انسان مستحبات کو چھوڑ دیتا ہے تو شیطان کے مقابلے میں موجود روحانی حفاظت کمزور پڑ جاتی ہے۔
استاد حوزہ علمیہ نے نماز میں سستی کو بھی خطرے کی علامت قرار دیا اور کہا کہ اگر انسان نماز کو بوجھ سمجھنے لگے یا نماز کے وقت سستی محسوس کرے تو اسے اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔ قرآن کریم میں منافقین کی ایک علامت نماز کے لیے سستی سے اٹھنا بیان کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نماز شب سے غفلت بھی انسان کی روحانی کمزوری کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے مؤمن کو چاہیے کہ عبادت، نماز اور دیگر نیک اعمال کے ذریعے اپنی روح کو بیدار رکھے اور شیطان کے بتدریج اثر انداز ہونے سے خود کو محفوظ رکھے۔









آپ کا تبصرہ